Its Me –

Posted on Updated on

I’m a software engineer & consultant  by profession, from Lahore Pakistan. Over the last seven years I have been working as software developer and consultant with various local and foreign clients, experiencing diverse and and emerging tools and technologies.

My hobbies includes playing chess, badminton,  sketching (I love to make sketches) reading poetry history & anything available; When I’m outside my cam capture different objects around me;

you can contact me at
voice :: +971.56.560.4883 (Dubai, UAE)
email :: aasimns@gmail.com
skype :: aasim.naseem

   flickr_logo

free counters

ایک اور ایک صفر

Posted on Updated on

میرے حساب سے میاں صاحب نے اپنے گزشتہ اور زندگی کےآخری دورِ حکومت میں دو انتہائی بہترین مواقع ضایع کیے، جب وہ اپنے مخالفین کا سر “وَنس فار آل” والے محاورے کے مطابق نہایت آسانی سے کچل سکتے تھے۔ پہلا موقع اُس وقت مِلا جب الیکشن کے فورا بعد اپوزیشن، بالخصوص تحریکِ انصاف کی طرف سے دھاندلی، چار حلقے کھولنے اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا گیا۔ میری ناقص رائے کے مطابق میاں صاحب فوراَ الیکشن کمیشن کے انڈر ایک کمیٹی بنا کر اِس معاملے کو فی الفور نِپٹاتے۔ پارٹی کے سینئر ممبران سے پریس کانفرنس کروا کر چاروں حلقوں کے نتائج کی ایک ایک پرچی، صفحات، فارم وغیرہ وغیرہ سب میڈیا اورعوام کے سامنے رکھ کر مخالفین کے منہ پر زور دار چماٹ رسید کرتے۔ یقین مانیے عوام کے دِل میں میاں صاحب کی عزت اور توقیر میں میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا، اورنئی منتخب حکومت کے ساتھ پورے طمطراق سے نئے سفر کا آغاز کرتے۔

لیکن نہیں ۔۔۔

جب دِل میں چور، اور ہاتھ میں کچھ نا ہوتو پھرالزام کو الزام کہا جاتا ہے اور کورٹ کے سٹے آرڈر کے پیچھے چُھپ چُھپ کر ایسا موقع گنوا دیا جاتا ہے۔

دوسرا موقع اب پانامہ کی صورت میں میاں اینڈ کمپنی کو میسر آیا جب دوبارہ اُنہی مخالفین اورعوام نے حساب اور صفائی کا مطالبہ کیا۔ میری ناقص رائے نے دوبارہ انگڑائی لے کر حساب لگایا کہ میاں صاحب کو ایک اور موقع میسر آیا ہے عوام کے دِل میں عزت و توقیر بڑھانے کا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ
میاں صاحب قوم سے خطاب فرماتے
عوام کو اپنا اعتماد دِلا کر دو، تین ہفتوں کا وقت لیتے۔
مقررہ تاریخ پر منتخب سینئر رہنماوں کی پریس کانفرینس میں تمام حساب کتاب، کاغذات، الزامات کا جواب مدلل اور صفائی کے ساتھ عوام اور میڈیا کے سامنے رکھ کر اپنا قد کہیں اونچا کر لیتے۔ الیکشن سے پہلے مخالفین کا تابوت انہی کی فراہم کردہ کیل کانٹوں سے ٹھونک دیتے ۔

لیکن (دوبارہ) نہیں ۔۔
جب دِل میں چور اور ہاتھ میں کچھ نا ہو تو پھر الزام کو الزام کہا جاتا ہے
پھر مہریں بھی بنتی ہیں
پھر خطوط بھی لکھے جاتے ہیں
میں مانوں، نا مانوں، تُو مانے، کون مانے کی ہاکی بھی شروع ہو جاتی ہے۔
ایک جھوٹ سے بندھے دوسرے جھوٹ، پھر تیسرے جھوٹ کی پرتیں بھی کھلتی ہیں۔
سادہ سا معاملہ فلیٹس سے نکل کرکمپنیوں، اقامووں، اور لندن سے نکل کر عرب امارات، سعودی، قطر تک بھی پہنچتا ہے۔
گھر کی بیٹی کا نام کہاں کہاں نہیں اچھلتا؟ کہاں کہاں نہیں زیرِگفتگو آتا ۔۔۔
ذلت در ذلت، ذلت در ذلت ۔۔۔ اور آخر میں تاحیات ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔
کیوں؟
کس چیز نے مجبور کیا یہ سب کرنے کو؟

میاں صاحب اُن مواقوں کو ایک اور ایک گیارہ بنا سکتے تھے، مگر میاں صاحب نے ایک اور ایک صفر کر دیے، خاندان کی نیک نامی، کاروبار، سیاست سب بھینٹ چھڑھا دیے۔

“اور آخرمیں معصومانہ سوال کہ “ہمارا قصور کیا ہے

عاصم نسیم صدیقی

پانامہ کیس ۔ گیارہ نِکاتی سازش

Posted on Updated on

پانامہ کیس کے تاریخ ساز فیصلہ پر میں سپریم کورٹ اور جےآئی ٹی کے ارکان کا بحیثیت پاکستانی شہری ذاتی طور پر تہہ دِل سے مشکور ہوں۔ اِس جرٰات اور بہادری سے اتنے مشکل مقدمہ سے جِس طرح نِپٹا گیا ہے وہ واقعی قابلِ تحسین ہے۔

میری اِس پوسٹ کے مخاطب میرے وہ بھائی اور بہنیں ہیں جِنکا رجحان اور سیاسی وابستگی حکمران خاندان اور پارٹی کے ساتھ ہے۔ آج کے فیصلہ کے بعد جِس طرح اُنکا ردِعمل سامنے آیا ہے، اُس چیز نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنے خیالات کا اظہار کروں۔

میرے کچھ دوستوں کی طرف سے مسلسل اِس طرح کے بیانات آ رہے ہیں جیسے پانامہ کے انکشافات سے لے کر اِس فیصلہ آنے تک سب کاروائی ایک سازش کا حصہ ہے، جِس میں یہودی لابی سے لے کر عمران، فوج، عدلیہ اور بیرونی طاقتیں سب شامل ہیں۔ اور بقول میرے احباب کے، اِن سب نے مل کر نواز شریف کو بجلی، دہشتگردی، سی پیک، گوادر اور دوسرے تمام ترقیاتی کاموں کی سزا کے طور پر جبراٰ ہٹایا ہے۔

آپ حضرات کی رائے اور نقطہ نظر کا احترام، لیکن عرض ہے کہ نوازشریف کا خاندان اور پارٹی اِس سازش کا حصہ کیوں بنی؟ کیوں خود ہی ایک سازش کو کامیاب ہونے میں اتنی مدد دی کہ کِسی بیرونی ہاتھ کی ضرورت ہی نا پیش آئی۔ میں کچھ مثالیں سامنے رکھوں گا، اِس امید کے ساتھ کہ آپ صرف ایک بار ضرور سوچیں کہ ایسا کیوں ہوا؟

ایک) کیا یہ سازشی عناصر نے کہا تھا کہ بیشک ساری دنیا میں اپنا کاروبار کرو، مگر کوئی رسید، بنک ٹرانزیکشن نا رکھنا۔ حکمران خاندان کا کاروبار 1970 سے چلا آرہا ہے۔ کیا سازشی عناصر اُس وقت سے اِن سب لوگوں کو رسید اور بنک ٹرانسیکشن سے روکتے چلے آ رہے ہیں؟

دو) جب پانامہ کیس کا غلغلہ اُٹھا اور اپوزیشن سمیت ملک بھر سے شریف خاندان سے صفائی دینے کا مطالبہ کیا گیا، تو کیا وجہ تھی کہ وزیرِاعظم صاحب نے قوم سے دو، تین خطاب تو کر لیے مگر ٹو۔دی۔پوائینٹ صفائی پیش نا کر سکے۔ کیا اُنکو سازشی عناصر نے ایسا کرنے سے روکے رکھا؟ حالانکہ یہ ایک بہترین سے بہترین موقع تھا کہ حکمران خاندان خود عوام سے خطاب کے دوران ہر چیز کا حساب بمع قانونی کاغذات اپنے حریفوں کے منہ پر مار کر اُنکی سیاست ہمیشہ کے لیے پیچھے دھکیل دیتا۔ کیا ایسا کرنے سے اُنکو عمران، عدلیہ، اپوزیشن نے روکے رکھا؟ یہ کیسے سازشی عناصر تھے جو خود کہ اپنی سازش ناکام کروانے کے لیے حساب کا مطالبہ کر رہے تھے؟ یا کوئی یہودی لابی تھی جِس نے کوئی بھی حساب دینے کے بجائےشریف خاندان کو حریفوں پر الزامات لگانے میں اُلجھائے رکھا؟

تین) کیا یہ بھی سازش کا حصہ تھا کہ نوازشریف صاحب اپنے چھوٹے بیٹے کو بڑے بیٹے کے فلیٹ میں کرایہ پر رکھ لیں مگر اُس کو بتائیں بھی نا، اور کرایہ بھی ہر ماہ پاکستان سے بھیجیں۔ کیونکہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ چھوٹے بیٹے نے اعتراف کیا کہ وہ فلیٹس میں کرایہ پر تھا اور کرایہ ہرماہ پاکستان میں موجود کاروبار سے آتا تھا۔ بڑے بیٹے نے بھی الحمداللہ کہ کر اُن فلیٹس کی ملکیت تسلیم کی۔ کیا یہ دونوں بیانات اور اعترافات بھی سازش کا حصہ تھے؟ اور نوازشریف کے دونوں بیٹے اِس سازش کا حصہ تھے؟

چار) کیا سازشی عناصر اتنے چالاک اور مضبوط تھے کہ انہوں نے پانامہ سکینڈل آنے کے بعد سے شریف فیملی کو روکے رکھا کہ کوئی بھی واضح ثبوت عوام کے سامنے نا پیش کرنا، حتٰی کہ کیس سپریم کورٹ میں دائر ہو گیا۔ جب شریف خاندان کو ایک اور موقع دستیاب ہوا کہ اپنی صفائی ملک کی سب سے بڑی عدالت میں پیش کرکے ہمیشہ کے لیے عزت و افتخار کا تاج اپنے سر سجا لیتے، مگراُس وقت بھی سازش کی ہی وجہ سے فاضل جج حضرات کے بارہا استفسار پر صرف ایک قطری خط پیش کیا گیا، جو کسی بھی حالت میں ایک قانونی ڈاکومنٹ نہیں مانا جا سکتا۔ مزید برآں کہ اُس خط میں ذکر کیے گئے تمام معاملات کی کوئی رسید اور بنک ٹرانزیکشن بھی موجود نہیں ہے۔  آپ خود ٹھنڈے دِل سے سوچیے کہ کڑوڑوں روپوں کا لین دین ہو مگر کوئی لکھت پرت نا ہو؟ ایسا لوجیکلی سمجھ میں آتا ہے؟ اتنے پیسے اگر بوریوں میں بھی بھر کر ترسیل کیے جائیں تو واقعی اونٹوں کی ہی ضرورت پڑے۔ آج کل کے دور میں ہم سو روپے کا چالان بھی جمع کروائیں تو چالان فارم کی کاپی اور بنک کے رسید سب حفاظت اپنے پاس رکھتے ہیں کہ کبھی مسئلہ ہوا تو ہمارے پاس ثبوت تو ہو کہ ہم جمع کرا چکے ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہیں کہ اتنے بڑی بڑی رقوم کا کوئی ایک بھی حساب نا ہو؟ کیا ایسا کرنے کا مشورہ سازشی عناصر نے دیا؟ عمران نے کہا کہ ایسا کرنا یا یہودی لابی نے کہا کہ بغیر بنک ٹرانزیکشن والا خط کورٹ میں جمع کروانا؟

پانچ) جب سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنا کر ایک اور موقع فراہم کیا، تو شریف خاندان کیوں نہیں اپنے آپ کو کلیئر کر پایا؟ نوٹ رکھیں کہ گیم ابھی بھی شریف خاندان کے ہی ہاتھ میں تھی۔ ثبوت اپنے دشمنوں کے منہ پر مار کر ہمیشہ کے لیے پاکستانی سیاست میں امر ہو سکتے تھے۔

چھ) کیا سازشی عناصر نے ہی کہا تھا کہ 2015 کے اوپر2007 کی مہر لگا کر کاغذات عدالت میں جمع کرا دینا؟

سات) کیا سازشی عناصر نے کہا کہ اپنے ڈاکومینٹ میں دو سال پہلے والا فونٹ استعمال کر لو؟ اور ہیرا پھیری پکڑے جانے پر وکی پیڈیا کے پیچ پر فونٹ کی ہسٹری تبدیل کرنے کے لیے اتنی درخواستیں جمع کرواو کہ وکی پیڈیا تنگ آکر  مزید درخواستیں لینا ہی بند کر دے؟ کون کہ سکتا ہے ایسا کرنے کو؟ فوج؟ عدلیہ؟ عمران؟ کِس کی سازش تھی ایسا فونٹ استعمال کروانے کی؟ اور وکی پیڈیا کو درخواستیں جمع کروانے کی؟

آٹھ) سازشی عناصر نے ہی سازش کر کے ساری بہن بھائیوں کے بیانات متضاد دِلوائے، تا کہ عدالت سمیت پوری عوام کنفیوز رہے .

نو) کیا عقل اِس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوتی ہے کہ ایک پاکستانی لڑکا جسکی تاریخ پیدائش جنوری 1976 ہو، اور 1999 میں محض 23 سال کی عمر میں لندن میں کڑوڑوں روپوں کے فلیٹس کا مالک بن جائے؟ لڑکا چاہے جتنا بھی تیز طرار اور لائق فائق کیوں نا ہو، 23 سال کی عمر تک صرف بنیادی پڑھائی ہی مکمل ہوتی ہے عملی زندگی میں آنے کے لیے۔  آپ خود سوچیں کہ اگر 2006 میں بھی فلیٹس کی ملکیت والی بات مان لی جائے تو بھی عمر 30 سال سے اوپر نہیں جاتی۔ لاکھوں پاکستانی لڑکوں نے اپنی عمریں لگا دِیں لندن میں مگر ایسے فلیٹس اورکمپنیاں نہیں بنا سکے۔ صرف یہی دو لڑکے کیسے بنا گئے؟ کیا یہاں بھی سازشی عناصر نے اُنکو فلیٹس دِلوا کر دیے؟

دس) سازشی عناصر نے ہی حجازی صاحب سے رابطہ کیا، اور انکو اُکسایا کہ شریف خاندان کی کمپنیوں کی تفصیلات میں ردوبدل کر دو تاکہ ہماری سازش کامیاب ہو سکے۔

گیارہ) جب سپریم کورٹ میں سازشی عناصر کا شریف فیملی کے ہاتھ باندھے رکھنے کے بعد بھی (کہ کوئی قانونی ثبوت عدالت میں جمع نا ہو) جب  جی آئی ٹی میں اور اُسکے بعد دوبارہ سپریم کورٹ کی پیشیوں میں شریف خاندان کو پورا پورا موقع، وقت اور آذادی دی گئی کہ خداراہ کوئی تو قانونی ثبوت دے دو، مگر تب بھی شریف خاندان کوئی واضح ثبوت نا لا سکا۔ کیا یہاں بھی سازشی عناصر اور یہودی لابی نے آخر دِن تک سب کے ہاتھ باندھے رکھے؟ یہاں تک کے ڈیڑھ سال کےبعد سب سے بڑی عدالت کو یہ فیصلہ دینا پڑا۔

صرف ایک بار ٹھنڈے دِل سے اوپر کے تمام گیارہ نکات کو پڑھیے اور سوچیے کہ کیا حکمران خاندان کو اپنی صفائی کے لیے بارہا مواقع نہیں فراہم کیے گیے؟ کیا آج کل کے دور میں اربوں روپوں کی ترسیل کے لیے دوست کی طرف سے ایک خط کافی ہونا چاہیے؟ یقین کریں دُکھ ہوتا ہے دیکھ کر، کہ کوئی بھی منطقی اور عقلی دلائل پر بحث کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ہماری طرف سے ایٹمی دھماکے، سی پیک، گوادر، کراچی کا امن سب چیزوں کا کریڈٹ لے لو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، مگر خداراہ اِن تمام نکات پر بھی تو بات کرو۔ کیا یہ سب مخالفین نے گن پوائنٹ پر کروایا آپ لوگوں کے لیڈرز سے؟

ایک بات اور، بیشک ملک کے تمام ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ وزیرِاعظم کو جاتا ہو، لیکن میں اِس کے بدلے انکو کسی قسم کی ہیرا پھیری یا کرپشن کا لائیسنس نہیں دے سکتا۔ اب یہ کہنا کہ ترقیاتی کاموں کی سزا کے طور پر سازش کے ذریعے میاں صاحب کو ہٹایا گیا ہے تو پہلی سطر سے دوبارہ پڑھنا شروع کریے۔ یہ کیسی سازش تھی کہ سازش کرنے والے میاں صاحب کو خود مواقع فراہم کر رہے تھے کہ سارے ثبوت اور قانونی کاغذات جمع کروا کر ہماری سازش ناکام بنا دو؟

پلیز، آپ لوگوں سے بہت ادب سے گزارِش ہے کہ اِن سارے نکات پر ایک بار اپنی سیاسی وابستگی بالاتر ہو کر سوچیے گا۔ جب شریف خاندان معصوم تھا تو یہ سب ہیرا پھیری اور جعل سازی کی کیوں ضرورت پیش آئی؟

آخری بات ۔ پانامہ کے اِس سارے ہنگامے کے بعد آپ کِس نتیجے پر پہنچے کہ فلیٹس اصل میں کِس کے نام ہیں؟ کیا آپ خود بھی قائل ہو گئے ہیں اور اِس قابل ہیں کہ اصل مالک کا نام بتا سکیں؟

شکریہ
عاصم نسیم صدیقی

When to use Delegation, Notification, or Observation in iOS

Posted on Updated on

Refresh your concepts about Delegation, Notification, or Observation in iOS

Shine Solutions Group

A common problem that we often experience when developing iOS applications, is how to allow communication between our controllers, without the need to have excessive coupling. Three common patterns that appear time and time again throughout iOS applications include:

  1. Delegation
  2. Notification Center, and
  3. Key value observing

So why do we need these patterns and when should and shouldn’t they be used?

View original post 1,691 more words

Difference between Queen Nefertiti and Queen Nefertiri?

Posted on Updated on

From last two three days, I was noticing this question, circulating over Quora. So I decided to shed some light there.
This confusion is only due to resemblance of names. Nefertiti and Nefertari were different individuals that lived approximately 50 years apart.

Nefertiti

The Chief Royal Wife of Akhenaten‘s full name was Nefer-neferuaten Nefertiti,  which means Beauty [of] beautiful of Aten, The beautiful one[woman]  [is] come’, lived in the 18th Dynasty sometime between 1394 b.c. and  1340 b.c. .Nefertiti is also known for a famous bust of her head, as show below.

Nefertari

The Chief Royal Wife of Ramses II‘s full name was Nefertari-Meri-Mut which means, The most beautiful of all the land, Beloved of Mut, and  lived sometime between 1292 b.c. and 1225 b.c.. Again these dates will vary.

Nefertari had a temple built for her at Abu Simbel. All four great statues at the entrance of this temple are of Ramses II, while Next to the legs of the colossi, there are other statues no higher than the knees of the pharaoh. These depict queen Nefertari.

Hieroglyph In Temple of Abydos

Posted on Updated on

For me, this is really a controversial piece of hieroglyph in the temple of Abydos. Some people (who claim that Egyptians had some contact with aliens) believe that this hieroglyph is real and in original form.

The Abydos-Hieroglyph
Some other says that the carving was altered by the successors of Ramses II (may be Merneptah). It was a common practice among Pharaohs of Egypt to destroy the symbols and glory of their forefathers, in order to showcase themselves. Example is Hatshepsut’s temple at Deir el Bahri, where statues and wall paintings were destroyed by her own son.

Read the rest of this entry »

Who built the great pyramid of Giza?

Posted on Updated on

The Giza Plateau has three main pyramids. The pyramid of Menkaure, the pyramid of Khafre and the great pyramid of Khufu.

As per the today’s widely accepted assumptions, the pyramid of Menkaure was probably completed in the 26th century BC. Pyramid of Khafre was built during the reign of Khafre who ruled from 2558 to 2532 BC. The great pyramid of Khufu was built during 2580-2560 BC.

Read the rest of this entry »

Is Sphinx several millennia older than we think it to be?

Posted on Updated on

Many Egyptologist (including Dr. Zahi Hawas, former Minister of State for Antiquities Affairs) insist that Sphinx was built nearly 4500BC, by the builder of 2nd pyramid of the Giza Plateau .i.e. the pyramid of Chephren (also read as Khafre, Khefren and Chephren).

But other researchers like John A. West and Robert Bauval (who first put forwarded the “Orion correlation theory”) believe that the both pyramids & Sphinx are much much older then Egypt civilization. Here I’m summarizing some extracts from their research paper where they are trying to prove that Sphinx is atleast 10 millennium BC old.

Read the rest of this entry »