پانامہ

ایک اور ایک صفر

Posted on Updated on

میرے حساب سے میاں صاحب نے اپنے گزشتہ اور زندگی کےآخری دورِ حکومت میں دو انتہائی بہترین مواقع ضایع کیے، جب وہ اپنے مخالفین کا سر “وَنس فار آل” والے محاورے کے مطابق نہایت آسانی سے کچل سکتے تھے۔ پہلا موقع اُس وقت مِلا جب الیکشن کے فورا بعد اپوزیشن، بالخصوص تحریکِ انصاف کی طرف سے دھاندلی، چار حلقے کھولنے اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا گیا۔ میری ناقص رائے کے مطابق میاں صاحب فوراَ الیکشن کمیشن کے انڈر ایک کمیٹی بنا کر اِس معاملے کو فی الفور نِپٹاتے۔ پارٹی کے سینئر ممبران سے پریس کانفرنس کروا کر چاروں حلقوں کے نتائج کی ایک ایک پرچی، صفحات، فارم وغیرہ وغیرہ سب میڈیا اورعوام کے سامنے رکھ کر مخالفین کے منہ پر زور دار چماٹ رسید کرتے۔ یقین مانیے عوام کے دِل میں میاں صاحب کی عزت اور توقیر میں میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا، اورنئی منتخب حکومت کے ساتھ پورے طمطراق سے نئے سفر کا آغاز کرتے۔

لیکن نہیں ۔۔۔

جب دِل میں چور، اور ہاتھ میں کچھ نا ہوتو پھرالزام کو الزام کہا جاتا ہے اور کورٹ کے سٹے آرڈر کے پیچھے چُھپ چُھپ کر ایسا موقع گنوا دیا جاتا ہے۔

دوسرا موقع اب پانامہ کی صورت میں میاں اینڈ کمپنی کو میسر آیا جب دوبارہ اُنہی مخالفین اورعوام نے حساب اور صفائی کا مطالبہ کیا۔ میری ناقص رائے نے دوبارہ انگڑائی لے کر حساب لگایا کہ میاں صاحب کو ایک اور موقع میسر آیا ہے عوام کے دِل میں عزت و توقیر بڑھانے کا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ
میاں صاحب قوم سے خطاب فرماتے
عوام کو اپنا اعتماد دِلا کر دو، تین ہفتوں کا وقت لیتے۔
مقررہ تاریخ پر منتخب سینئر رہنماوں کی پریس کانفرینس میں تمام حساب کتاب، کاغذات، الزامات کا جواب مدلل اور صفائی کے ساتھ عوام اور میڈیا کے سامنے رکھ کر اپنا قد کہیں اونچا کر لیتے۔ الیکشن سے پہلے مخالفین کا تابوت انہی کی فراہم کردہ کیل کانٹوں سے ٹھونک دیتے ۔

لیکن (دوبارہ) نہیں ۔۔
جب دِل میں چور اور ہاتھ میں کچھ نا ہو تو پھر الزام کو الزام کہا جاتا ہے
پھر مہریں بھی بنتی ہیں
پھر خطوط بھی لکھے جاتے ہیں
میں مانوں، نا مانوں، تُو مانے، کون مانے کی ہاکی بھی شروع ہو جاتی ہے۔
ایک جھوٹ سے بندھے دوسرے جھوٹ، پھر تیسرے جھوٹ کی پرتیں بھی کھلتی ہیں۔
سادہ سا معاملہ فلیٹس سے نکل کرکمپنیوں، اقامووں، اور لندن سے نکل کر عرب امارات، سعودی، قطر تک بھی پہنچتا ہے۔
گھر کی بیٹی کا نام کہاں کہاں نہیں اچھلتا؟ کہاں کہاں نہیں زیرِگفتگو آتا ۔۔۔
ذلت در ذلت، ذلت در ذلت ۔۔۔ اور آخر میں تاحیات ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔
کیوں؟
کس چیز نے مجبور کیا یہ سب کرنے کو؟

میاں صاحب اُن مواقوں کو ایک اور ایک گیارہ بنا سکتے تھے، مگر میاں صاحب نے ایک اور ایک صفر کر دیے، خاندان کی نیک نامی، کاروبار، سیاست سب بھینٹ چھڑھا دیے۔

“اور آخرمیں معصومانہ سوال کہ “ہمارا قصور کیا ہے

عاصم نسیم صدیقی

Advertisements